Font by Mehr Nastaliq Web

ارضِ طیبہ عجیب بستی ہے

صبیح الدین رحمانی

ارضِ طیبہ عجیب بستی ہے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    ارضِ طیبہ عجیب بستی ہے

    جس کو ہر اک نظر ترستی ہے

    بالیقیں زائرِ حرم کے لیے

    ہر قدم جذب کیف و مستی ہے

    آپ کی ذاتِ پاک ہے سب کچھ

    مری ہستی بھی کوئی ہستی ہے

    دل کی دنیا کو کیا کہیں آخر

    رحمتِ عرش خود برستی ہے

    سرِ بازار جنسِ عشق حضور

    جتنی مہنگی ہے اتنی سستی ہے

    یا نبی آپ ہی بلا لیجیے

    پاؤں زنجیرِ یاس کستی ہے

    پئے نعت نبی مئے انوار

    میرے افکار پر برستی ہے

    بے جمال درِ حضور صبیحؔ

    زندگی موت کو ترستی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے