جلوہ گر مشعل سرمدی ہوگئی
جلوہ گر مشعل سرمدی ہوگئی
ہر طرف روشنی روشنی ہوگئی
سجدہ گاہِ حضورِ نبی ہوگئی
بندگی واقعی بندگی ہوگئی
رحمتیں دیکھتی ہیں مری سمت خود
کیسی قسمت گنہگار کی ہوگئی
ان کے جلووں کی پھیلی جو تابانیاں
دور دنیا سے سب تیرگی ہوگئی
اللہ اللہ شانِ کلامِ نبی
جو کہا حق کی مرضی وہی ہوگئی
ذکرِ جنت ذرا بھی جہاں چھڑ گیا
مجھ کو سیرِ دیارِ نبی ہوگئی
ایسی چھلکی شرابِ حبیبِ خدا
خود خودی حاصلِ بے خودی ہوگئی
نعت گوئی کہاں اور کہاں میں صبیحؔ
صرف حسان کی پیروی ہوگئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.