حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے
نظر سے چوم لوں اک بار سبز گنبد کو
بلا سے پھر میری دنیا میں شام ہو جائے
تجلیات سے بھر لوں میں کاسۂ دل و جاں
کبھی جو ان کی گلی میں قیام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کے فاصلہ یہ چندگام ہو جائے
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے
ملے مجھے بھی زبانِ بو صیری و جامی
مرا کلام بھی مقبولِ عام ہو جائے
مزا تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیں
صبیحؔ مدحتِ خیرالانام ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.