Font by Mehr Nastaliq Web

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے

صبیح الدین رحمانی

حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے

    سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے

    نظر سے چوم لوں اک بار سبز گنبد کو

    بلا سے پھر میری دنیا میں شام ہو جائے

    تجلیات سے بھر لوں میں کاسۂ دل و جاں

    کبھی جو ان کی گلی میں قیام ہو جائے

    حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل

    سمٹ کے فاصلہ یہ چندگام ہو جائے

    حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے

    حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے

    ملے مجھے بھی زبانِ بو صیری و جامی

    مرا کلام بھی مقبولِ عام ہو جائے

    مزا تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیں

    صبیحؔ مدحتِ خیرالانام ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے