ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے
ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے
دیکھوں دیارِ طیبہ دل میں یہی ٹھنی ہے
اٹھوں نہ مرکے بھی میں طیبہ کی رہ گذر سے
محدود حاضری میں بگڑی کہیں بنی ہے
سرکار کی فضیلت لاریب غیب لیکن
قرآں کے آئینے میں دیکھو تو دیدنی ہے
محشر کی دھوپ کیا ہے ہم عاصیوں کے حق میں
گیسوئے مصطفیٰ کی چھاؤں بہت گھنی ہے
گریہ پہ میرے نم ہیں کیوں اہل زر کی آنکھیں
ہر اشک ہجرِ شہ میں ہیرے کی اک کنی ہے
دنیا کما رہے ہیں جو دیں کا نام لے کر
یہ رہبری نہیں ہے واللہ رہزنی ہے
میدانِ کربلا میں ثابت ہوا یہ سچ مچ
جو قول کا دھنی ہے وہ فعل کا دھنی ہے
جاں اے صبیحؔ کیا ہے اس در پہ نذر کر دو
دنیائے بے وفا سے کس کی سدا بنی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.