Font by Mehr Nastaliq Web

ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے

صبیح الدین رحمانی

ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے

    دیکھوں دیارِ طیبہ دل میں یہی ٹھنی ہے

    اٹھوں نہ مرکے بھی میں طیبہ کی رہ گذر سے

    محدود حاضری میں بگڑی کہیں بنی ہے

    سرکار کی فضیلت لاریب غیب لیکن

    قرآں کے آئینے میں دیکھو تو دیدنی ہے

    محشر کی دھوپ کیا ہے ہم عاصیوں کے حق میں

    گیسوئے مصطفیٰ کی چھاؤں بہت گھنی ہے

    گریہ پہ میرے نم ہیں کیوں اہل زر کی آنکھیں

    ہر اشک ہجرِ شہ میں ہیرے کی اک کنی ہے

    دنیا کما رہے ہیں جو دیں کا نام لے کر

    یہ رہبری نہیں ہے واللہ رہزنی ہے

    میدانِ کربلا میں ثابت ہوا یہ سچ مچ

    جو قول کا دھنی ہے وہ فعل کا دھنی ہے

    جاں اے صبیحؔ کیا ہے اس در پہ نذر کر دو

    دنیائے بے وفا سے کس کی سدا بنی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے