حوصلہ دے فکر کو اور بارشِ فیضان کر
حوصلہ دے فکر کو اور بارشِ فیضان کر
ہے ثنا تیری بہت مشکل اِسے آسان کر
رفتہ رفتہ کھول مجھ پر راز ہائے جسم و جاں
دھیرے دھیرے مجھ پہ ظاہر تو مری پہچان کر
زیست کے تپتے ہوئے صحرا میں ہوں اس سے نکال
میرے سر پر بیکراں رحمت کی چادر تان کر
کفر آلود فضا میں سانس لینا ہے محال
پھر سے اس گم کردہ رِہ کو صاحب ایمان کر
ختم ہوجائے بساطِ خاک کا سب شور و شر
بے سکونی کو عطا پھر حسنِ اطمینان کر
خیمۂ شب سے یہی آواز آتی ہے صبیحؔ
حمد لکھ اور اس طرح بخشش کا کچھ سامان کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.