Font by Mehr Nastaliq Web

خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اٹھا

سید صبیح الدین رحمانی

خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اٹھا

سید صبیح الدین رحمانی

MORE BYسید صبیح الدین رحمانی

    خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اٹھا

    آپ کیا آئے کہ ہستی کا مقدر جاگ اٹھا

    تیرگی سے خوف کھا کر جب پکارا آپ کو

    جسم و جاں میں روشنی کا اک سمندر جاگ اٹھا

    جب ہوئی ان کی صداقت کو شہادت کی طلب

    ہاتھ میں بو جہل کے ہر ایک کنکر جاگ اٹھا

    رو کر سویا ہی تھا میں یادِ پیمبر میں ابھی

    چشمِ تر میں گنبدِ خضریٰ کا منظر جاگ اٹھا

    جب ہوا در پیش مدحِ مصطفیٰ کا معرکہ

    ذہن کے میدان میں لفظوں کا لشکر جاگ اٹھا

    منزلِ احساس کی راہیں منور ہو گئیں

    سوچ کے آئینے میں اک نور پیکر جاگ اٹھا

    قافلے جب بھی مدینے کے نظر آئے صبیحؔ

    قلب مضطر کسمسایا دیدۂ تر جاگ اٹھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے