خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اٹھا
خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اٹھا
آپ کیا آئے کہ ہستی کا مقدر جاگ اٹھا
تیرگی سے خوف کھا کر جب پکارا آپ کو
جسم و جاں میں روشنی کا اک سمندر جاگ اٹھا
جب ہوئی ان کی صداقت کو شہادت کی طلب
ہاتھ میں بو جہل کے ہر ایک کنکر جاگ اٹھا
رو کر سویا ہی تھا میں یادِ پیمبر میں ابھی
چشمِ تر میں گنبدِ خضریٰ کا منظر جاگ اٹھا
جب ہوا در پیش مدحِ مصطفیٰ کا معرکہ
ذہن کے میدان میں لفظوں کا لشکر جاگ اٹھا
منزلِ احساس کی راہیں منور ہو گئیں
سوچ کے آئینے میں اک نور پیکر جاگ اٹھا
قافلے جب بھی مدینے کے نظر آئے صبیحؔ
قلب مضطر کسمسایا دیدۂ تر جاگ اٹھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.