Font by Mehr Nastaliq Web

تھے عالی مرتبہ سب انبیا اول سے آخر تک

صبیح الدین رحمانی

تھے عالی مرتبہ سب انبیا اول سے آخر تک

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    تھے عالی مرتبہ سب انبیا اول سے آخر تک

    مگر سرکار سا کوئی نہ تھا اول سے آخر تک

    نکل آئیں گے حل سب مسئلوں کے چند لمحوں میں

    حیاتِ مصطفےٰ کو سوچنا اوّل سے آخر تک

    اتارے جسم و جاں پر سارے موسم شادمانی کے

    بدل دی شہرِ ہستی کی فضا اول سے آخر تک

    جنہیں امی لقب کہہ کر زمانہ یاد کرتا ہے

    وہی ہیں حامل علم خدا اول سے آخر تک

    فرشتوں نے مری لوحِ عمل پر روشنی رکھ دی

    ثنا خوانِ محمد لکھ دیا اول سے آخر تک

    ملی ہے کاسۂ فن کو مرے خیرات طیبہ سے

    مرا دیوان ہے ان کی عطا اول سے آخر تک

    بہارِ نعت سے باغ سخن لہکا صبیحؔ ایسا

    تر و تازہ رہی فصلِ نوا اول سے آخر تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے