تھے عالی مرتبہ سب انبیا اول سے آخر تک
تھے عالی مرتبہ سب انبیا اول سے آخر تک
مگر سرکار سا کوئی نہ تھا اول سے آخر تک
نکل آئیں گے حل سب مسئلوں کے چند لمحوں میں
حیاتِ مصطفےٰ کو سوچنا اوّل سے آخر تک
اتارے جسم و جاں پر سارے موسم شادمانی کے
بدل دی شہرِ ہستی کی فضا اول سے آخر تک
جنہیں امی لقب کہہ کر زمانہ یاد کرتا ہے
وہی ہیں حامل علم خدا اول سے آخر تک
فرشتوں نے مری لوحِ عمل پر روشنی رکھ دی
ثنا خوانِ محمد لکھ دیا اول سے آخر تک
ملی ہے کاسۂ فن کو مرے خیرات طیبہ سے
مرا دیوان ہے ان کی عطا اول سے آخر تک
بہارِ نعت سے باغ سخن لہکا صبیحؔ ایسا
تر و تازہ رہی فصلِ نوا اول سے آخر تک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.