کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
صبیح الدین رحمانی
MORE BYصبیح الدین رحمانی
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
کب کڑی دھوپ میں مصطفیٰ نے سایہ کملی کا ڈالا نہیں ہے
ان کی رحمت کا کیا ہے ٹھکانا دیکھ لے سوئے طائف زمانہ
موسم سنگ باری میں لب پر کیا دعا کا اجالا نہیں ہے
لاج رکھی گئی ہر صدا کی دل نوازی ہوئی ہر گدا کی
ہے سخی ان کا دربار ایسا کسی سائل کو ٹالا نہیں ہے
گونج ان کی ثنا کی رہی ہے ہر نبی نے خبر ان کی دی ہے
کوئی ایسا صحیفہ نہیں ہے جس میں ان کا حوالہ نہیں ہے
لڑ کھڑاتا ہوا جب چلا ہوں بھیڑ نے راستہ دے دیا ہے
راہِ ہستی میں ان کے کرم نے کس جگہ پر سنبھالا نہیں ہے
ہے جہاں بھی حکومت خدا کی رحمتیں ہیں وہیں مصطفیٰ کی
سارے عالم ہیں چشم کرم میں کس جگہ کملی والا نہیں ہے
ان کی مدحت پہ مامور ہوں میں غیر کی مدح سے دور ہوں میں
فکر و فن کو صبیحؔ اپنے میں نے کبھی غزلوں میں ڈھالا نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.