Font by Mehr Nastaliq Web

نظر آتے ہیں پھول سب کے سب

سید صبیح الدین رحمانی

نظر آتے ہیں پھول سب کے سب

سید صبیح الدین رحمانی

MORE BYسید صبیح الدین رحمانی

    نظر آتے ہیں پھول سب کے سب

    حرفِ نعتِ رسول سب کے سب

    ان کی تقلید کر کے سیکھے ہیں

    رہبری کے اصول سب کے سب

    آپ کے فلسفے کے بعد حضور

    فلسفے ہیں فضول سب کے سب

    ان کے آنے سے پہلے اہل عرب

    تھے ظلوم و جہول سب کے سب

    مہر و ماہ و نجوم و کاہکشاں

    پائے اقدس کی دھول سب کے سب

    مقتدی تھے امام اقصیٰ کے

    انبیا و رسول سب کے سب

    شعر جو نعت کے کہے ہیں صبیحؔ

    کاش وہ ہوں قبول سب کے سب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے