وہ قافلے کب بھٹک رہے ہیں
وہ قافلے کب بھٹک رہے ہیں
جو سبز گنبد کو تک رہے ہیں
ازل بھی ان کا ابد بھی ان کا
سب آئینوں میں جھلک رہے ہیں
تمام اسمِ گرامی ان کے
بساطِ جاں پر چمک رہے ہیں
وہ سوزِ عشق نبی ہے دل میں
ہزار الاؤ دہک رہے ہیں
قدم اٹھے ہیں سوئے مدینہ
تمام رستے مہک رہے ہیں
زباں کو مدحت کی آرزو ہے
لہو میں نغمے ہمک رہے ہیں
صبیحؔ کیسے ادا ہو مدحت
حروف لب پر اٹک رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.