Font by Mehr Nastaliq Web

وہ قافلے کب بھٹک رہے ہیں

صبیح الدین رحمانی

وہ قافلے کب بھٹک رہے ہیں

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    وہ قافلے کب بھٹک رہے ہیں

    جو سبز گنبد کو تک رہے ہیں

    ازل بھی ان کا ابد بھی ان کا

    سب آئینوں میں جھلک رہے ہیں

    تمام اسمِ گرامی ان کے

    بساطِ جاں پر چمک رہے ہیں

    وہ سوزِ عشق نبی ہے دل میں

    ہزار الاؤ دہک رہے ہیں

    قدم اٹھے ہیں سوئے مدینہ

    تمام رستے مہک رہے ہیں

    زباں کو مدحت کی آرزو ہے

    لہو میں نغمے ہمک رہے ہیں

    صبیحؔ کیسے ادا ہو مدحت

    حروف لب پر اٹک رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے