غنچۂ نعت جو ہونٹوں پہ چٹک جاتا ہے
غنچۂ نعت جو ہونٹوں پہ چٹک جاتا ہے
وادئ جاں کا ہر اک گوشہ مہک جاتا ہے
یہ تو چلتا ہے پتا شہرِ مدینہ جا کر
کیسے انسان کوئی تا بہ فلک جاتا ہے
جو نہیں رکھتا نظر نقشِ قدم پہ ان کے
ایسا انسان اندھیرو ں میں بھٹک جاتا ہے
اب نہیں کوئی بھی منزل مرے دل کی منزل
یہ تو سرکار کی دہلیز تلک جاتا ہے
ان کی توصیف کے آفاق کروں طے کیسے
طائرِ فکر مرا راہ میں تھک جاتا ہے
عندلیبانِ ریاض نبوی میں میں ہے صبیحؔ
بزمِ مدحت نظر آئے تو چہک جاتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.