Font by Mehr Nastaliq Web

غنچۂ نعت جو ہونٹوں پہ چٹک جاتا ہے

صبیح الدین رحمانی

غنچۂ نعت جو ہونٹوں پہ چٹک جاتا ہے

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    غنچۂ نعت جو ہونٹوں پہ چٹک جاتا ہے

    وادئ جاں کا ہر اک گوشہ مہک جاتا ہے

    یہ تو چلتا ہے پتا شہرِ مدینہ جا کر

    کیسے انسان کوئی تا بہ فلک جاتا ہے

    جو نہیں رکھتا نظر نقشِ قدم پہ ان کے

    ایسا انسان اندھیرو ں میں بھٹک جاتا ہے

    اب نہیں کوئی بھی منزل مرے دل کی منزل

    یہ تو سرکار کی دہلیز تلک جاتا ہے

    ان کی توصیف کے آفاق کروں طے کیسے

    طائرِ فکر مرا راہ میں تھک جاتا ہے

    عندلیبانِ ریاض نبوی میں میں ہے صبیحؔ

    بزمِ مدحت نظر آئے تو چہک جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے