زباں سے نکلا صلِ علیٰ مواجہ پر
زباں سے نکلا صلِ علیٰ مواجہ پر
چراغ بن گئے حرف و نوا مواجہ پر
درود پڑھتی ہوئی ساعتوں کے جھرمٹ میں
سلام پڑھتا ہوا میں بھی تھا مواجہ پر
حضور حرفِ شفاعت کی بھیک دے دیجیے
ہر ایک اشک نے دی یہ صد ا موجہ پر
خدا کر ے مجھے عمرِ دوام مل جائے
خدا کرے ہو مرا خاتمہ مواجہ پر
صبیحؔ مجھ کو حضوری کی مل گئی معراج
طلب کروں تو کروں اور کیا مواجہ پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.