Font by Mehr Nastaliq Web

زباں سے نکلا صلِ علیٰ مواجہ پر

سید صبیح الدین رحمانی

زباں سے نکلا صلِ علیٰ مواجہ پر

سید صبیح الدین رحمانی

MORE BYسید صبیح الدین رحمانی

    زباں سے نکلا صلِ علیٰ مواجہ پر

    چراغ بن گئے حرف و نوا مواجہ پر

    درود پڑھتی ہوئی ساعتوں کے جھرمٹ میں

    سلام پڑھتا ہوا میں بھی تھا مواجہ پر

    حضور حرفِ شفاعت کی بھیک دے دیجیے

    ہر ایک اشک نے دی یہ صد ا موجہ پر

    خدا کر ے مجھے عمرِ دوام مل جائے

    خدا کرے ہو مرا خاتمہ مواجہ پر

    صبیحؔ مجھ کو حضوری کی مل گئی معراج

    طلب کروں تو کروں اور کیا مواجہ پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے