محمد کے جلوے نظر آ رہے ہیں
محمد کے جلوے نظر آ رہے ہیں
حجابِ دو عالم اٹھے جا رہے ہیں
درِ شہ پہ ہم یوں مٹے جا رہے ہیں
پئے زندگی زندگی پا رہے ہیں
صبا کوئی پیغام طیبہ سے لائی
گلستاں کے کانٹے کھلے جا رہے ہیں
سنورتی ہے قدرت نکھرتی ہے فطرت
کچھ اس شان سے شاہِ دیں آ رہے ہیں
نہ روشن ہو کس طرح یہ چاند سورج
درِ مصطفیٰ سے ضیا پا رہے ہیں
وہ شمعِ حرم ہو کہ طورِ تجلیٰ
حضور آپ ہی نور برسا رہے ہیں
دو عالم کے داتا نگاہِ کرم ہو
سگِ آستاں ٹھوکریں کھا رہے ہیں
صبیحِؔ سخن ور جو شہرت ہے تیری
کرم تجھ پہ سرکار فرما رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.