Font by Mehr Nastaliq Web

فیضان کی بٹتی ہے خیرات مدینے میں

صفیہ ناز صابری

فیضان کی بٹتی ہے خیرات مدینے میں

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    فیضان کی بٹتی ہے خیرات مدینے میں

    رحمت کی برستی ہے برسات مدینےمیں

    کھو جاتا ہے ہر زائر پُر کیف مناظر میں

    قابو میں نہیں رہتے جذبات مدینے میں

    خورشید بھی شرمائے طیبہ کے اجالے سے

    انوار میں لپٹی ہے ہر رات مدینے میں

    دکھ درد کے ماروں پر آقا کی عطائیں ہیں

    سکھ چین کی ملتی ہے سوغات مدینے میں

    ہر ایک کی جھولی میں انمول خزانے ہیں

    گنتی میں نہیں آتیں برکات مدینے میں

    سرکار بلا لیں گر اب نازؔ کو قدموں میں

    بن جائے گی پھر اپنی ہر بات مدینے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے