فیضان کی بٹتی ہے خیرات مدینے میں
فیضان کی بٹتی ہے خیرات مدینے میں
رحمت کی برستی ہے برسات مدینےمیں
کھو جاتا ہے ہر زائر پُر کیف مناظر میں
قابو میں نہیں رہتے جذبات مدینے میں
خورشید بھی شرمائے طیبہ کے اجالے سے
انوار میں لپٹی ہے ہر رات مدینے میں
دکھ درد کے ماروں پر آقا کی عطائیں ہیں
سکھ چین کی ملتی ہے سوغات مدینے میں
ہر ایک کی جھولی میں انمول خزانے ہیں
گنتی میں نہیں آتیں برکات مدینے میں
سرکار بلا لیں گر اب نازؔ کو قدموں میں
بن جائے گی پھر اپنی ہر بات مدینے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.