Font by Mehr Nastaliq Web

وہ زلف عنبریں وہ سراپا خیال میں

صفیہ ناز صابری

وہ زلف عنبریں وہ سراپا خیال میں

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    وہ زلف عنبریں وہ سراپا خیال میں

    رہتا ہے شاہِ دین کا چہرہ خیال میں

    ترقیمِ نعتِ شاہِ دو عالم کے واسطے

    لازم رہے حضور کا اسوہ خیال میں

    دل میں سما گئیں ہیں مدینے کی رونقیں

    رہتا ہے ہر گھڑی مرے روضہ خیال میں

    آنکھوں میں بس گئی ہے جو صورت حضور کی

    دِکھتا ہے چار سو مجھے جلوہ خیال میں

    خوشبو نے رگِ جان میں خیمے لگا لیے

    جب آگیا ہے ان کا پسینہ خیال میں

    محبوبِِ دو جہاں تھے مدینے میں جلوہ گر

    وہ آ گیا ہے میرے زمانہ خیال میں

    جس خوش نصیب راہ سے گزرے تھے شاہِ دیں

    چوما ہے نازؔ نے بھی وہ رستہ خیال میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے