Font by Mehr Nastaliq Web

ہوا ہے نعت کا روشن دیا مدینے سے

صفیہ ناز صابری

ہوا ہے نعت کا روشن دیا مدینے سے

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    ہوا ہے نعت کا روشن دیا مدینے سے

    ملا ہے فیض مجھے بے بہا مدینے سے

    کبھی جو ہجر میں سرکار کو پکارا ہے

    کرم کی آئی ہے ٹھنڈی ہوا مدینے سے

    جو نام سیدِ والا کا ورد کرتی ہوں

    تو گھیر لیتی ہے آ کر ضیا مدینے سے

    خدا کا شکر کہ حسرت رہی نہ دنیا کی

    ہوئی ہے مجھ پہ کچھ ایسی عطا مدینے سے

    انہی کے در کا بھکاری ہے سارا ہی عالم

    کہ خالی لوٹا نہ کوئی گدا مدینے سے

    جسے ملی ہے غلامی حبیبِ داور کی

    اسے ملے گی محبت سدا مدینے سے

    مرا نصیب ہے چمکا نبی کی الفت سے

    ملی ہے نازؔ کو نوری ردا مدینے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے