ہوا ہے نعت کا روشن دیا مدینے سے
ہوا ہے نعت کا روشن دیا مدینے سے
ملا ہے فیض مجھے بے بہا مدینے سے
کبھی جو ہجر میں سرکار کو پکارا ہے
کرم کی آئی ہے ٹھنڈی ہوا مدینے سے
جو نام سیدِ والا کا ورد کرتی ہوں
تو گھیر لیتی ہے آ کر ضیا مدینے سے
خدا کا شکر کہ حسرت رہی نہ دنیا کی
ہوئی ہے مجھ پہ کچھ ایسی عطا مدینے سے
انہی کے در کا بھکاری ہے سارا ہی عالم
کہ خالی لوٹا نہ کوئی گدا مدینے سے
جسے ملی ہے غلامی حبیبِ داور کی
اسے ملے گی محبت سدا مدینے سے
مرا نصیب ہے چمکا نبی کی الفت سے
ملی ہے نازؔ کو نوری ردا مدینے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.