نبی کے دیس کی ٹھنڈی ہوائیں یاد آتی ہیں
نبی کے دیس کی ٹھنڈی ہوائیں یاد آتی ہیں
معطر مشکبو پیاری فضائیں یاد آتی ہیں
کبھی جب بیٹھتے تھے گنبدِ خضریٰ کی چھاؤں میں
جو مانگی تھیں وہاں ساری دعائیں یاد آتی ہیں
وہ بادل رحمتوں کے اور بخشش کی فراوانی
برستی ہر گھڑی نوری گھٹائیں یاد آتی ہیں
درودوں کے سلاموں کے ترانے وہ رسیلے سے
اذانوں کی بڑی میٹھی صدائیں یاد آتی ہیں
وہ روضے کی تجلی اور وہ انوار کی بارش
سنہری جالیوں کی وہ شعائیں یاد آتی ہیں
کرم سے جھولیاں بھرکر جو لوٹے تھے مدینے سے
محمد مصطفیٰ کی سب عطائیں یاد آتی ہیں
تمنا ہے بلائیں نازؔ کو پھر بھی مرے آقا
بڑی شدت سے وہ پیاری فضائیں یاد آتی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.