Font by Mehr Nastaliq Web

نبی کے دیس کی ٹھنڈی ہوائیں یاد آتی ہیں

صفیہ ناز صابری

نبی کے دیس کی ٹھنڈی ہوائیں یاد آتی ہیں

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    نبی کے دیس کی ٹھنڈی ہوائیں یاد آتی ہیں

    معطر مشکبو پیاری فضائیں یاد آتی ہیں

    کبھی جب بیٹھتے تھے گنبدِ خضریٰ کی چھاؤں میں

    جو مانگی تھیں وہاں ساری دعائیں یاد آتی ہیں

    وہ بادل رحمتوں کے اور بخشش کی فراوانی

    برستی ہر گھڑی نوری گھٹائیں یاد آتی ہیں

    درودوں کے سلاموں کے ترانے وہ رسیلے سے

    اذانوں کی بڑی میٹھی صدائیں یاد آتی ہیں

    وہ روضے کی تجلی اور وہ انوار کی بارش

    سنہری جالیوں کی وہ شعائیں یاد آتی ہیں

    کرم سے جھولیاں بھرکر جو لوٹے تھے مدینے سے

    محمد مصطفیٰ کی سب عطائیں یاد آتی ہیں

    تمنا ہے بلائیں نازؔ کو پھر بھی مرے آقا

    بڑی شدت سے وہ پیاری فضائیں یاد آتی ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے