Font by Mehr Nastaliq Web

بس گئی ہے دل میں آقا کی محبت کی مہک

صفیہ ناز صابری

بس گئی ہے دل میں آقا کی محبت کی مہک

صفیہ ناز صابری

MORE BYصفیہ ناز صابری

    بس گئی ہے دل میں آقا کی محبت کی مہک

    کر گئی جاں کو معطر ان کی شفقت کی مہک

    ہر گھڑی رہتی ہیں یہ پیاسی نگاہیں منتظر

    کاش مل جائے کبھی ان کی زیارت کی مہک

    میرے لب پر ہیں ترانے آپ کی توصیف کے

    اور سمائی ہے مری سانسوں میں مدحت کی مہک

    جب سے آقا کی غلامی کی سعادت مل گئی

    دیتی ہے تسکین دل کو ان کی نسبت کی مہک

    گلشنِ طیبہ کے غنچے پھول کلیاں واہ واہ

    ہے بہاروں کا سماں آتی ہے جنت کی مہک

    ذکرِ احمد سے ملی ہے میرے من کو روشنی

    ہر طرف پھیلی ہوئی ہے اُن کی جلوت کی مہک

    مٹ گئی ہیں دوریاں اب زندگی پُر کیف ہے

    مل گئی ہے نازؔ کو آقا کی قربت کی مہک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے