Font by Mehr Nastaliq Web

تجلی نورِ ایماں جلوۂ بے داغ ہے خسرو

صغیر احمد صوفی

تجلی نورِ ایماں جلوۂ بے داغ ہے خسرو

صغیر احمد صوفی

MORE BYصغیر احمد صوفی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    تجلی نورِ ایماں جلوۂ بے داغ ہے خسرو

    خدا کے فیض کا در پر ترے بازار ہے خسرو

    گدا ہو شاہ ہو سب پر ترا فیضان یکساں ہے

    جہاں والوں کے حق میں بارش انوار ہے خسرو

    تقدس کی ضیا ہے منبع الہام ہے خسرو

    خدا کا عرش ہے بھیجا ہوا پیغام ہے خسرو

    اگر چشمِ بصیرت ہو تو پھر یہ راز افشا ہے

    حقیقت میں علاجِ گردش ِایام ہے خسرو

    خوشا یہ شب نچھاور تیرے در پر سب کا تن من ہے

    عقیدت کے چراغوں کی نظر بھی سوئے مدفن ہے

    معطر ہے فضایہ کس کا ذکر خیر ہے صوفیؔ

    کہ ایسے وقت میں روحانیت کی شمع روشن ہے

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 64)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے