فنکار تھا، حاصل تھی، ہر فن سے شناسائی
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
فنکار تھا، حاصل تھی، ہر فن سے شناسائی
قدموں میں رہی اس کے ہر منزلِ دانائی
وہ بزمِ شریعت ہو، یا بزم طریقت ہو
ہر حال نمایاں تھی اس شخص کی گیرائی
اک عاشقِ صادق تھا اک رہبر کامل تھا
وہ مرد قلندر تھا، ہر علم کا شیدائی
ہندو ہو مسلماں ہو کس دل میں نہیں گونجی
اس ہند کے طوطی کی آواز کی شہنائی
اشعار سے پھیلایا پیغام ،محبت کا
موسیقی کے نغموں سے کی انجمن آرائی
دنیا سے گئے اس کو ، یوں سات صدی گذری
باقی ہے مگر اب تک اس کی وہی رعنائی
یہ عشق حقیقی کا اعجاز ہے خسرو نے
محبوب الٰہی کے قدموں میں جگہ پائی
اشعار نے خسروؔ کے عقدے کیے حل کیا کیا
جب بھی کبھی صوفیؔ پر دشوار گھڑی آئی
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 65)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.