ہے زمانے بھر میں شہرہ اب مرے اشعار کا
ہے زمانے بھر میں شہرہ اب مرے اشعار کا
ذکر ہے ان میں جنابِ احمدِ مختار کا
جسم خاکی میں نہاں اک مخزنِ تنویر ہے
ہے مرے دل میں تصور احمدِ مختار کا
اک زمانہ تک رہا ہے مجھ کو کس تعظیم سے
ہے مری آنکھوں میں جلوہ سیدِ ابرار کا
قاتلوں نے بھی جھکایا آپ کے قدموں پہ سر
یہ بھی تھا اک معجزہ اخلاق کی تلوار کا
دولتِ دنیا کی اس زردار کو خواہش نہیں
مل گیا جس کو خزانہ آپ کے دیدار کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.