لامکاں سے گزرے ہیں کہکشاں سے آئے ہیں
لامکاں سے گزرے ہیں کہکشاں سے آئے ہیں
آج مرسلِ اعظم دو جہاں پہ چھائے ہیں
کون ماہ رو ہے یہ دیکھنےکی خواہش میں
ظلمتوں کے عاشق بھی روشنی میں آئے ہیں
آج کس کی آمد ہے عرشِ ناز میں دیکھو
بام و در سبھی یارو نور میں نہائے ہیں
مجھ کو گنبدِ خضریٰ خواب میں نظر آیا
کیا زمینِ طیبہ سے کچھ پیام آئے ہیں
آج ابنِ آدم پر رحمتوں کی بارش ہے
اس شبِ منور میں بخششوں کے سائے ہیں
خوب فیضِ یزدانی مل رہا ہے سیلانیؔ
ہم بھی سبز گنبد سے اپنی لو لگائے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.