Font by Mehr Nastaliq Web

لامکاں سے گزرے ہیں کہکشاں سے آئے ہیں

سیلانی سیوتے

لامکاں سے گزرے ہیں کہکشاں سے آئے ہیں

سیلانی سیوتے

MORE BYسیلانی سیوتے

    لامکاں سے گزرے ہیں کہکشاں سے آئے ہیں

    آج مرسلِ اعظم دو جہاں پہ چھائے ہیں

    کون ماہ رو ہے یہ دیکھنےکی خواہش میں

    ظلمتوں کے عاشق بھی روشنی میں آئے ہیں

    آج کس کی آمد ہے عرشِ ناز میں دیکھو

    بام و در سبھی یارو نور میں نہائے ہیں

    مجھ کو گنبدِ خضریٰ خواب میں نظر آیا

    کیا زمینِ طیبہ سے کچھ پیام آئے ہیں

    آج ابنِ آدم پر رحمتوں کی بارش ہے

    اس شبِ منور میں بخششوں کے سائے ہیں

    خوب فیضِ یزدانی مل رہا ہے سیلانیؔ

    ہم بھی سبز گنبد سے اپنی لو لگائے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے