Font by Mehr Nastaliq Web

لے لے گی مری جان تمنائے مدینہ

سالک رام

لے لے گی مری جان تمنائے مدینہ

سالک رام

MORE BYسالک رام

    لے لے گی مری جان تمنائے مدینہ

    مدت سے ہے اب وردِ زباں ہائے مدینہ

    کیوں کر نہ دل و جاں سے مجھے بھائے مدینہ

    آنکھوں میں بسا ہے مرے مولائے مدینہ

    ہر داغِ جگر میں ہے گلِ خلد کی خوشبو

    جیسے ہے مرے دل میں تمنائے مدینہ

    عقل و خرد و ہوش ہوں وارفتۂ وحشت

    دکھلائے جنوں مجھ کو جو صحرائے مدینہ

    کونین کی چیزوں میں مجھے کچھ نہیں بھاتا

    جس دن سے مرے سر میں ہے سودائے مدینہ

    جنت کی ہوس خلد کی خواہش نہ رہے پھر

    اک بار جو قسمت مجھے دکھلائے مدینہ

    ہے تنگ بہت تیرگیِ جہل سے مولا

    کس طرح رہے ہند میں شیدائے مدینہ

    حورانِ بہشتی سے وہ کیا آنکھ لڑائے

    بھا جائے جسے شاہدِ زیبائے مدینہ

    چھپ جائیں مہ و مہر ابھی ابر کے اندر

    برق اپنی تجلی کی جو چمکائے مدینہ

    ہو جائیں زلیخا کی طرح حضرتِ یوسف

    دیکھیں جو کہیں دلبرِ رعنائے مدینہ

    سرمہ کی طرح آنکھوں میں سالکؔ میں لگا لوں

    ہاتھ آئے جو خاکِ درِ مولائے مدینہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے