لے لے گی مری جان تمنائے مدینہ
مدت سے ہے اب وردِ زباں ہائے مدینہ
کیوں کر نہ دل و جاں سے مجھے بھائے مدینہ
آنکھوں میں بسا ہے مرے مولائے مدینہ
ہر داغِ جگر میں ہے گلِ خلد کی خوشبو
جیسے ہے مرے دل میں تمنائے مدینہ
عقل و خرد و ہوش ہوں وارفتۂ وحشت
دکھلائے جنوں مجھ کو جو صحرائے مدینہ
کونین کی چیزوں میں مجھے کچھ نہیں بھاتا
جس دن سے مرے سر میں ہے سودائے مدینہ
جنت کی ہوس خلد کی خواہش نہ رہے پھر
اک بار جو قسمت مجھے دکھلائے مدینہ
ہے تنگ بہت تیرگیِ جہل سے مولا
کس طرح رہے ہند میں شیدائے مدینہ
حورانِ بہشتی سے وہ کیا آنکھ لڑائے
بھا جائے جسے شاہدِ زیبائے مدینہ
چھپ جائیں مہ و مہر ابھی ابر کے اندر
برق اپنی تجلی کی جو چمکائے مدینہ
ہو جائیں زلیخا کی طرح حضرتِ یوسف
دیکھیں جو کہیں دلبرِ رعنائے مدینہ
سرمہ کی طرح آنکھوں میں سالکؔ میں لگا لوں
ہاتھ آئے جو خاکِ درِ مولائے مدینہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.