کیسی حور و قصور کی باتیں
کیسی حور و قصور کی باتیں
کیجیے بس حضور کی باتیں
مجھ میں جو ہیں شعور کی باتیں
سب ہیں میرے حضور کی باتیں
جب تھیں زمیں پر طور کی باتیں
عرش پر تھیں حضور کی باتیں
ایک ہے رب بتا دیا تم نے
مٹ گئیں سب فتور کی باتیں
میرے سرکار سب کی سنتے ہیں
پاس کی ہوں کہ دور کی باتیں
وہ سنیں گے ثمرؔ ضرور اک دن
مجھ سے اک بے شعور کی باتیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.