Font by Mehr Nastaliq Web

کیسی حور و قصور کی باتیں

ثمر بدایونی

کیسی حور و قصور کی باتیں

ثمر بدایونی

MORE BYثمر بدایونی

    کیسی حور و قصور کی باتیں

    کیجیے بس حضور کی باتیں

    مجھ میں جو ہیں شعور کی باتیں

    سب ہیں میرے حضور کی باتیں

    جب تھیں زمیں پر طور کی باتیں

    عرش پر تھیں حضور کی باتیں

    ایک ہے رب بتا دیا تم نے

    مٹ گئیں سب فتور کی باتیں

    میرے سرکار سب کی سنتے ہیں

    پاس کی ہوں کہ دور کی باتیں

    وہ سنیں گے ثمرؔ ضرور اک دن

    مجھ سے اک بے شعور کی باتیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے