Font by Mehr Nastaliq Web

اجالے ذہن میں ہیں روشنی ضمیر میں ہے

سرشار صدیقی

اجالے ذہن میں ہیں روشنی ضمیر میں ہے

سرشار صدیقی

MORE BYسرشار صدیقی

    اجالے ذہن میں ہیں روشنی ضمیر میں ہے

    کہ خاکِ کوئے مدینہ میرے خمیر میں ہے

    یہ دل ہے یادِ رسالتِ مآب سے معمور

    متاعِ کون و مکاں کاسۂ فقیر میں ہے

    مدینے جاؤں سبکدوش مدعا ہو جاؤں

    یہ اِک عظیم تمنا دلِ حقیر میں ہے

    مدینے پہنچوں گا یارو ضرور پہنچوں گا

    کہ یہ سفر تو میرے ہاتھ کی لکیر میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے