اجالے ذہن میں ہیں روشنی ضمیر میں ہے
اجالے ذہن میں ہیں روشنی ضمیر میں ہے
کہ خاکِ کوئے مدینہ میرے خمیر میں ہے
یہ دل ہے یادِ رسالتِ مآب سے معمور
متاعِ کون و مکاں کاسۂ فقیر میں ہے
مدینے جاؤں سبکدوش مدعا ہو جاؤں
یہ اِک عظیم تمنا دلِ حقیر میں ہے
مدینے پہنچوں گا یارو ضرور پہنچوں گا
کہ یہ سفر تو میرے ہاتھ کی لکیر میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.