اللہ رے کیا مجھ کو ہر اک سو نظر آیا
اللہ رے کیا مجھ کو ہر اک سو نظر آیا
جب غور سے دیکھا تو تو ہی تو نظر آیا
گلزار میں ڈھونڈ ھے ہے جسے صورت بلبل
اپنے ہی میں پوشیدہ وہ گل رو نظر آیا
سر جھک گیا خود شوق شہادت میں مری جاں
جس دم مجھے اس یار کا ابرو نظر آیا
ساقی نے جب اک جام حقیقت کا پلایا
پھر تو ہمیں وہ یار ہی ہر سو نظر آیا
حورانِ جناں کی نہ ہوس دل میں رہے گی
زاہد جو کہیں تجھ کو وہ مہر و نظر آیا
نظارۂ عالم سے نہ کیوں بند کروں آنکھ
دیکھوں میں کسے یار نہ جب تو نظر آیا
شمشاد سما جائے گا غیرت سے زمیں میں
اس ماہ کا گر قامتِ دل جو نظر آیا
آئے گی بلا سر پہ کہ بڑھ جائے کا سودا
اب خیر نہیں پھر ترا گیسو نظر آیا
سرورؔ کو ہوس پھر نہ کسی شے کی رہے گی
مل جائے گا سب کچھ اسے گر تو نظر آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.