Font by Mehr Nastaliq Web

اللہ رے کیا مجھ کو ہر اک سو نظر آیا

سرور اجمیری

اللہ رے کیا مجھ کو ہر اک سو نظر آیا

سرور اجمیری

MORE BYسرور اجمیری

    اللہ رے کیا مجھ کو ہر اک سو نظر آیا

    جب غور سے دیکھا تو تو ہی تو نظر آیا

    گلزار میں ڈھونڈ ھے ہے جسے صورت بلبل

    اپنے ہی میں پوشیدہ وہ گل رو نظر آیا

    سر جھک گیا خود شوق شہادت میں مری جاں

    جس دم مجھے اس یار کا ابرو نظر آیا

    ساقی نے جب اک جام حقیقت کا پلایا

    پھر تو ہمیں وہ یار ہی ہر سو نظر آیا

    حورانِ جناں کی نہ ہوس دل میں رہے گی

    زاہد جو کہیں تجھ کو وہ مہر و نظر آیا

    نظارۂ عالم سے نہ کیوں بند کروں آنکھ

    دیکھوں میں کسے یار نہ جب تو نظر آیا

    شمشاد سما جائے گا غیرت سے زمیں میں

    اس ماہ کا گر قامتِ دل جو نظر آیا

    آئے گی بلا سر پہ کہ بڑھ جائے کا سودا

    اب خیر نہیں پھر ترا گیسو نظر آیا

    سرورؔ کو ہوس پھر نہ کسی شے کی رہے گی

    مل جائے گا سب کچھ اسے گر تو نظر آیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے