میں فدا ہوں تم پہ شہِ زماں مجھے سب غموں سے چھڑا دیا
میں فدا ہوں تم پہ شہِ زماں مجھے سب غموں سے چھڑا دیا
مجھے اپنے عشق میں آپ نے مرے خواجہ خوب پھنسا دیا
موری نیا تھی منجدھار میں یا کو پار آپ نے کینے ہے
توپہ واری واری میں اے پیا مجھے آ کے تم نے بچا دیا
موہے اپنی تم نے ڈگربتا رہِ غیر مجھ سے ہے دی چھڑا
تورا درس پاکے اے پیا سدھ بدھ کو میں نے بھلا دیا
نہیں غیر کی مجھے چاہ ہے میں فدا ہوں تم پہ اے شاہ اب
یہ کرم بہت ہی بڑا ہوا کہ خیالِ غیر ہٹا دیا
جہاں دیکھا وہیں ہے جلوہ گر یہاں اور وہاں ادھر اور ادھر
یہ کرم ہے خواجہ کا مجھ پہ کیا کہ دوئی کا پردہ اٹھا دیا
کروں کس زباں سے میں شکر یہ کرم آپ کا ہے بے انتہا
یہاں کفر دل سے ہٹاتے ہی وہاں عشق اپنا دلا دیا
وہی ہر طرف نظر آتا ہے ذرا غور سے دیکھا چاہیے
وہی سرورؔ آپ سے بھی ملا جو خودی کو دل سے مٹا دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.