مہ و خورشید و انجم کو عطا کی روشنی تم نے
مہ و خورشید و انجم کو عطا کی روشنی تم نے
منور کر دیا سارے جہاں کو یا نبی تم نے
بجھا کر کفر کی شمع مٹا کر زورِ باطل کو
ہر اک انسان کو بخشا شعورِ زندگی تم نے
خجالت سے جھکے جاتے ہیں سر دنیا میں شاہوں کے
غلاموں کو سکھائے وہ رموزِ سروری تم نے
خلوصِ دل سے سجدہ با ادب اللہ کو کرنا
زمانے کو بتایا ہے یہ طرزِ بندگی تم نے
جہاں میں توڑ کر پندار، شاہی اور امیری کا
غریبوں بے نواؤں کو عطا کی ہمسری تم نے
کسی بھی مرحلے میں زندگی کے شافعِ محشر
بھلایا ہے نہ دل سے اپنی امت کو کبھی تم نے
تمہارا لطف ہے سایہ فگن ستارِؔ عاصی پر
کہ اس بربادِ الفت کو عطا کی آگہی تم نے
- کتاب : معطر معطر (Pg. 37)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.