نہ ہے فکرِ ظلمتِ شامِ غم، نہ رخِ سحر کی تلاش ہے
نہ ہے فکرِ ظلمتِ شامِ غم، نہ رخِ سحر کی تلاش ہے
جو حسیں خدا کا حبیب ہے، مجھے اس کے در کی تلاش ہے
نہ شعورِ فن کی ہے آرزو، نہ کسی ہنر کی تلاش ہے
جو قبولِ درگہ ناز ہو، مجھے اس اثر کی تلاش ہے
میری دسترس سے جو دور ہے جو سراپا آیۂ نور ہے
وہ جو خود تجلی طور ہے، مجھے اس بشر کی تلاش ہے
سرِ بام جلوہ دکھا دیا، مجھے مست و بے خود بنا دیا
کہ خدا سے جس نے ملا دیا، اسی خوش نظر کی تلاش ہے
تھا جو فرش و عرش کا فاصلہ، وہ پلک جھپکتے ہی طے ہوا
ہے جہاں جہاں بھی وہ نقشِ پا اسی رہ گزر کی تلاش ہے
مری آنکھ ہر دم ہے اشک بار، دل مضطرب کو نہیں قرار
جو ہے کائنات کا غم گسار، اسی چارہ گر کی تلاش ہے
ترے باغِ حسن میں کس طرح، میں قفس سے پہنچوں تو ہی بتا
ہو کرم بس اب شہِ دوسرا، مجھے بال و پر کی تلاش ہے
- کتاب : معطر معطر (Pg. 32)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.