Font by Mehr Nastaliq Web

نہ ہے فکرِ ظلمتِ شامِ غم، نہ رخِ سحر کی تلاش ہے

ستار وارثی

نہ ہے فکرِ ظلمتِ شامِ غم، نہ رخِ سحر کی تلاش ہے

ستار وارثی

MORE BYستار وارثی

    نہ ہے فکرِ ظلمتِ شامِ غم، نہ رخِ سحر کی تلاش ہے

    جو حسیں خدا کا حبیب ہے، مجھے اس کے در کی تلاش ہے

    نہ شعورِ فن کی ہے آرزو، نہ کسی ہنر کی تلاش ہے

    جو قبولِ درگہ ناز ہو، مجھے اس اثر کی تلاش ہے

    میری دسترس سے جو دور ہے جو سراپا آیۂ نور ہے

    وہ جو خود تجلی طور ہے، مجھے اس بشر کی تلاش ہے

    سرِ بام جلوہ دکھا دیا، مجھے مست و بے خود بنا دیا

    کہ خدا سے جس نے ملا دیا، اسی خوش نظر کی تلاش ہے

    تھا جو فرش و عرش کا فاصلہ، وہ پلک جھپکتے ہی طے ہوا

    ہے جہاں جہاں بھی وہ نقشِ پا اسی رہ گزر کی تلاش ہے

    مری آنکھ ہر دم ہے اشک بار، دل مضطرب کو نہیں قرار

    جو ہے کائنات کا غم گسار، اسی چارہ گر کی تلاش ہے

    ترے باغِ حسن میں کس طرح، میں قفس سے پہنچوں تو ہی بتا

    ہو کرم بس اب شہِ دوسرا، مجھے بال و پر کی تلاش ہے

    مأخذ :
    • کتاب : معطر معطر (Pg. 32)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے