ہے رشکِ شہنشاہی وہ شانِ فقیرانہ
ہے رشکِ شہنشاہی وہ شانِ فقیرانہ
قربان ہوئی جس پر ہر شوکتِ شاہانہ
بھرتے ہیں سلاطیں بھی، دم ان کی غلامی کا
اللہ و غنی ان کا الطافِ کریمانہ
اس در پہ ملائک بھی کرتے ہیں جبیں سائی
ہے جلوہ گہ جاناں، سرکار کا کاشانہ
سرکار کے سجدوں کی عظمت تو کوئی دیکھے
اب قبلۂ عالم ہے وہ گھر جو تھا بتخانہ
سوزِ غم پنہاں کی، لذت تو وہی سمجھے
جو عشقِ محمد میں دنیا سے ہو بیگانہ
دشمن کو بھی سینے سے، لپٹاتے ہیں وہ اپنے
اے صل علیٰ ان کا اخلاقِ محبانہ
تصدیق حقیقت ہو یوں میری محبت کی
سرکارِ دو عالم کا بن جاؤں میں دیوانہ
کچھ اشکِ ندامت ہیں آنکھوں میں فقط باقی
کیا پیش کروں ان کی سرکار میں نذرانہ
اس خاک نشیں کو بھی قدموں میں بلا لیجے
ستارِؔ حزیں کی ہے، یہ عرض غلامانہ
- کتاب : معطر معطر (Pg. 73)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.