Font by Mehr Nastaliq Web

ہے رشکِ شہنشاہی وہ شانِ فقیرانہ

ستار وارثی

ہے رشکِ شہنشاہی وہ شانِ فقیرانہ

ستار وارثی

MORE BYستار وارثی

    ہے رشکِ شہنشاہی وہ شانِ فقیرانہ

    قربان ہوئی جس پر ہر شوکتِ شاہانہ

    بھرتے ہیں سلاطیں بھی، دم ان کی غلامی کا

    اللہ و غنی ان کا الطافِ کریمانہ

    اس در پہ ملائک بھی کرتے ہیں جبیں سائی

    ہے جلوہ گہ جاناں، سرکار کا کاشانہ

    سرکار کے سجدوں کی عظمت تو کوئی دیکھے

    اب قبلۂ عالم ہے وہ گھر جو تھا بتخانہ

    سوزِ غم پنہاں کی، لذت تو وہی سمجھے

    جو عشقِ محمد میں دنیا سے ہو بیگانہ

    دشمن کو بھی سینے سے، لپٹاتے ہیں وہ اپنے

    اے صل علیٰ ان کا اخلاقِ محبانہ

    تصدیق حقیقت ہو یوں میری محبت کی

    سرکارِ دو عالم کا بن جاؤں میں دیوانہ

    کچھ اشکِ ندامت ہیں آنکھوں میں فقط باقی

    کیا پیش کروں ان کی سرکار میں نذرانہ

    اس خاک نشیں کو بھی قدموں میں بلا لیجے

    ستارِؔ حزیں کی ہے، یہ عرض غلامانہ

    مأخذ :
    • کتاب : معطر معطر (Pg. 73)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے