نہ صوفی ہوں نہ زاہد ہوں نہ عابد ہوں نہ میں عامل
نہ صوفی ہوں نہ زاہد ہوں نہ عابد ہوں نہ میں عامل
ہے دیدارِ رسول اللہ میرے عشق کی منزل
نہیں دنیا میں مجھ کو دولت و ثروت اگر حاصل
یہ کیا کم ہے کہ ہوں ان کے درِ اقدس کا میں سائل
شرف حاصل ہوا جب سے مجھے ان کی حضوری کا
نہیں ہے عیش دنیا پہ دلِ مضطر مرا مائل
ضرورت چارہ گر کی ہے نہ مجھ کو خضرِ منزل کی
اب ان کی جنبشِ ابرو سے حل ہوتی ہے ہر مشکل
بنا ہے طور ساماں جب سے میرے دل کا ہر ذرہ
نہیں اٹھتا شبِ غم میں بھی اب مدت سے درِد دل
وہ مختارِ جہاں ہیں جس کو جو چاہے عطا کر دیں
میں راہِ عشق میں ستارؔ قسمت کا نہیں قائل
- کتاب : معطر معطر (Pg. 67)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.