عرشِ بریں سے نورِ خدا جلوہ بار ہے
عرشِ بریں سے نورِ خدا جلوہ بار ہے
ہر شے جمالِ یار کی آئینہ دار ہے
آرائشِ چمن سے فضا مشک بار ہے
جس سمت دیکھو صل علیٰ کی پکار ہے
آج آمدِ حضور ہے جشنِ بہار ہے
آمد ہے ان کی جن کا تھا نبیوں کو انتظار
آمد ہے ان کی جو ہیں رسولوں میں ذی وقار
آمد ہے ان کی جو ہیں دو عالم کے تاجدار
آمد ہے ان کی جن کے کرم کا نہیں شمار
وہ آرہے ہیں جن سے خدا کو بھی پیار ہے
ہر چشم تر سے ان کی محبت ہے آشکار
دیدار کی خوشی میں ہر اک دل ہے بے قرار
ان کے رخ حسین پہ دل و جان سب نثار
بخشا خدا نے ان کو دو عالم کا اختیار
ان کا جود رحمتِ پروردگار ہے
وہ بادشاہِ حسن ہیں وہ سیدالبشر
مِنت گزار ان کے سلاطین و تاجور
لاکھوں درود اور سلام ان کی ذات پر
ستارؔ مجھ کو کہتے ہیں ان کا گدائے در
میرا نصیب باعثِ صد افتخار ہے
- کتاب : معطر معطر (Pg. 50)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.