Font by Mehr Nastaliq Web

حاصل نہ ہوا گو مجھے دیدار محمد

شباب للت

حاصل نہ ہوا گو مجھے دیدار محمد

شباب للت

MORE BYشباب للت

    حاصل نہ ہوا گو مجھے دیدار محمد

    دیتا ہے مجھے روشنی کردار محمد

    ہر آیت قرآں ہے طہارت کا خزینہ

    احکام ہیں یزداں کے بگفتار محمد

    اے خاک مدینہ تجھے آنکھوں سے لگا لوں

    دامن ہے ترا مطلع انوار محمد

    دشمن کا بھی مانا نہ برا بلکہ دعا دی

    دیکھے تو کوئی جذبۂ ایثار محمد

    محشر میں کریں گے وہی بخشش کی سفارش

    ہر سچے مسلمان سے ہے اقرار محمد

    جنت نہ ملے حشر میں تو اپنی بلا سے

    خوش ہوں کہ ملے گا مجھے دیدار محمد

    خود سیرت یزداں کا آئینہ و صورت

    اک نور کا مینار ہے کردار محمد

    گلہائے نوازش ذرا دو چار ادھر بھی

    صدقے ترے اے دامن گلبار محمد

    کرتے رہے توحید کے چشمے اسے سیراب

    شاداب و شگفتہ رہے گلزار محمد

    محبوب الٰہی وہ رسول عربی ہے

    کل امت اسلام ہے دلدار محمد

    انسان کو انسان بنانا ہے ابھی تو

    ہے تشنۂ تکمیل ابھی کار محمد

    منعم سے زیادہ یہاں مفلس کی ہے پرسش

    دربار محمد ہے یہ دربار محمد

    میرا بھی ہے مخدوم وہ محبوب الٰہی

    میں بھی ہوں شبابؔ ادنیٰ پرستار محمد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے